مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے قبل سفارتی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں جبکہ سیاسی فضا میں احتیاط اور امید دونوں عناصر موجود ہیں۔ ایرانی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ مذاکراتی عمل میں شمولیت کسی خوش فہمی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے، جس کا بنیادی مقصد جوہری حقوق کا تحفظ اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ ایران کے سرکاری مؤقف کے مطابق مذاکرات کا دائرہ کار صرف جوہری پروگرام تک محدود رہے گا اور کسی اضافی معاملے کو ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اس پیش رفت میں خطے کے چند ممالک کی مشاورت نے اہم کردار ادا کیا، جنہوں نے بڑھتی کشیدگی کے ممکنہ اثرات سے خبردار کرتے ہوئے اختلافات کے حل کے لیے مکالمے کو ناگزیر قرار دیا۔ علاقائی استحکام کے تناظر میں فعال سفارت کاری کو ترجیح دی جارہی ہے۔ اسی سلسلے میں عمان کی ثالثی کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، جو ماضی میں بھی حساس ادوار میں دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کا ذریعہ بنتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والا دور اس بات کا تعین کرے گا کہ فریقین کشیدگی میں کمی اور کسی قابل عمل پیش رفت کی سمت بڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔
مذاکرات کی حدود متعین، جوہری پروگرام تک محدود
باخبر ذرائع کے مطابق ایران نے اسی وقت نئے مذاکراتی عمل میں قدم رکھا جب امریکی جانب سے یہ پیغام موصول ہوا کہ گفت و شنید کا ایجنڈا صرف جوہری پروگرام تک محدود رہے گا۔ تہران نے شرکت کے لیے دو بنیادی شرائط طے کیں: یورینیم افزودگی کے اصول کو تسلیم کیا جائے اور مذاکرات کا مکمل ارتکاز صرف جوہری موضوع پر ہو۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر علاقائی معاملات یا میزائل پروگرام جیسے موضوعات کو اس فریم ورک میں شامل کیا گیا تو اسے ابتدائی مفاہمت سے انحراف تصور کیا جائے گا اور سفارتی عمل رک سکتا ہے۔ تہران کے نزدیک مذاکرات کا مقصد واضح ہے یعنی جوہری حقوق کا تحفظ، نام نہاد ظالمانہ پابندیوں کا خاتمہ اور ملک کے لیے قابل ادراک معاشی فوائد کا حصول۔
بداعتمادی کا مذاکراتی عمل پر اثر
نئے سفارتی منظرنامے میں عمومی سطح پر امریکا کے بارے میں گہرا عدم اعتماد ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ستمبر تا اکتوبر 2025 کے دوران ادارہ GAMAAN کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق تقریباً 75 سے 80 فیصد ایرانی جواب دہندگان نے امریکا کو ناقابل اعتماد قرار دیا، جبکہ براہ راست مذاکرات کی حمایت محدود سطح پر دیکھی گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ذہنیت تاریخی تجربات سے جڑی ہے۔ 1953 میں ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کے خلاف بغاوت، جسے ایران میں 28 مرداد کے واقعات کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، اب بھی سیاسی حافظے کا حصہ ہے۔ ایرانی بیانیے میں یہ مؤقف بارہا دہرایا جاتا رہا ہے کہ مختلف ادوار میں امریکا نے اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ انہی عوامل نے واشنگٹن کی نیت کے بارے میں تہران کے سرکاری مؤقف اور عوامی رائے دونوں کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث مذاکراتی ٹیم کو بیرونی سفارتی تقاضوں کے ساتھ ساتھ داخلی حساسیتوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا پڑ رہا ہے۔
واشنگٹن؛ متضاد رویّہ اور سنجیدگی کا امتحان
ایرانی حکام کے مطابق امریکی عہدیداروں کے بیانات اور عملی اقدامات میں تضاد پائیدار مذاکراتی عمل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ مختصر وقفوں میں مؤقف کی تبدیلی، سرکاری پیغامات میں ہم آہنگی کا فقدان اور مذاکراتی نشستوں کے درمیان طویل وقفہ ایسے عوامل ہیں جنہیں تہران غیر پیشہ ورانہ اور غیر سنجیدہ طرز عمل کی علامت قرار دیتا ہے۔
ایران اب بھی مذاکرات کو کشیدگی کم کرنے اور قومی مفادات کے حصول کا بنیادی ذریعہ سمجھتا ہے، تاہم یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکا کے اندر بعض جنگ پسند حلقے اور صہیونی حکومت کے قریب سمجھے جانے والے عناصر بات چیت کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اسی لیے تہران نے ایک طرف اپنی سنجیدگی کا اعادہ کیا ہے اور دوسری طرف واضح کیا ہے کہ مذاکرات دھمکی اور دباؤ سے پاک ماحول میں ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔
نئے مرحلے میں یورپ کا پس منظر میں چلے جانا
اگرچہ جرمنی، برطانیہ اور فرانس سابقہ جوہری معاہدے کے اہم دستخط کنندگان تھے، لیکن حالیہ ہفتوں میں ان کی جانب سے ایرانی اعلی حکام سے براہ راست رابطہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ تہران میں بعض تجزیہ کار اسے موجودہ معاملے میں یورپ کے عملی کردار میں کمی کی علامت سمجھتے ہیں۔ بعض حلقوں کے نزدیک یہ
تینوں ممالک اب مؤثر ثالث کے بجائے ایک رکاوٹ کے طور پر دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث ایران نے علاقائی چینلز پر زیادہ انحصار شروع کر دیا ہے۔
سفارت کاری کے ساتھ اصول موقف پر تاکید
اسلامی جمہوریہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اس کا مطلب سرخ لکیروں سے پیچھے ہٹنا نہیں۔ مذاکراتی ٹیم نتیجہ خیز بنانے پر زور دے رہی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو کم سے کم وقت میں ایرانی عوام کے لیے ٹھوس اور قابل محسوس فائدہ دینا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دوسرا دور مذاکرات محض ایک فنی نشست نہیں بلکہ ایک سیاسی امتحان ہے، جس سے یہ واضح ہوگا کہ آیا واشنگٹن متوازن اور پائیدار معاہدے کی سمت سنجیدہ قدم بڑھانا چاہتا ہے یا نہیں۔ تہران شکوک و شبہات کے باوجود بات چیت کو کشیدگی کم کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہے، مگر اس بار پہلے سے زیادہ احتیاط اور ماضی کے تجربات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے قدم بڑھا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ